آگرہ،12؍اپریل (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) کچھ ہندو تنظیمیں اور سیاسی پارٹی ممتا بنرجی پر ہندو مخالف کام کرنے کا الزام لگاتی رہی ہیں ۔وہیں منگل کو بنگال کے کچھ اضلاع میں ہنومان جینتی کی ریلی کے دوران لاٹھی چارج کے واقعہ کے سامنے آنے کے بعد اب معاملہ مزید گرم ہو گیا ہے۔اس واقعہ سے ناراض بی جے پی یوا مورچہ نے منگل کو مغربی بنگال کی وزیر اعلی ممتا بنرجی کا سر قلم کرنے پر 11لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کردیا ہے۔یوپی کے علی گڑھ میں بی جے پی یوا مورچہ کے سابق منڈل صدر یوگیش وارشرنے نے یہ اشتعال انگیز اعلان کیا ہے۔ایک اخبار سے بات چیت میں یوگیش نے کہاکہ مغربی بنگال کے سوری، بیربھوم ضلع میں ہنومان جینتی کے موقع پر جے شری رام کا نعرے لگانے کی وجہ سے ریلی پر لاٹھی چارج کیا گیا، لوگوں کو بری طرح سے پیٹا گیا ،یہ بدقسمتی کی بات ہے۔لاٹھی چارج کا شکار ہوئے لوگ کسی سیاسی پارٹی کے نہیں بلکہ عام عقیدت مند تھے۔یوگیش نے ممتا حکومت پر مسلمانوں کی منھ بھرائی کے لیے ہندوؤں کو نشانہ بنائے جانے کا الزام لگایا۔انہوں نے کہا کہ ریاست کی وزیر اعلی ممتا پر 11لاکھ کا انعام کا اعلان کرنا، اس واقعہ پر ناراضگی ظاہر کرنے کا طریقہ ہے۔ممتا نے غلط کیا ،لیکن ہمارے مذہب اور ثقافت کا طریقہ نہیں ہے گردن کاٹنا یا گردن کاٹنے والے کو انعام دینا۔جن کا ہے ان کا حال پوری دنیا میں دیکھ لو۔ بیربھوم میں سوری پولیس نے ہنومان جینتی کے منتظمین کو کسی بھی قسم کی ریلی یا پروگرام منعقد کرنے کی اجازت نہیں دی تھی۔جلوس میں تقریبا 5000افراد شامل تھے۔ان میں کئی موٹر سائیکل سوار اپنے ہاتھ میں بھگوا پرچم لئے ہوئے تھے، یہ ’جے شری رام‘کے نعرے لگا رہے تھے۔حالانکہ ، جلوس میں بی جے پی یا آر ایس ایس کا کوئی لیڈر شامل نہیں تھا۔